نئی دہلی، 13؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) مودی حکومت میں مہنگائی کے محاذ پر ایک بار پھر عام آدمی کو جھٹکا لگا ہے۔ اگست میں خوردہ مہنگائی کی شرح میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔ جولائی کے مقابلے میں اگست میں خوردہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر پھر 7 فیصد پر پہنچ گئی۔ اس سے قبل جولائی ماہ میں شرح مہنگائی میں معمولی راحت ملی تھی۔
مرکزی حکومت کے ذریعہ جاری اعداد و شمار کے مطابق اگست 2022 میں ہندوستان کی خوردہ مہنگائی بڑھ کر 7 فیصد ہو گئی جو خصوصاً بڑھی ہوئی خوردہ اشیا کی قیمتوں کے سبب ہے۔ اگست میں خوردنی اشیاء کی شرح مہنگائی 7.62 فیصد رہی، جو جولائی میں 6.75 فیصد تھی۔
اس سے قبل جون میں ملک کی خوردہ مہنگائی شرح 7.01 فیصد تھی، جب کہ جولائی میں اس میں معمولی گراوٹ آئی تھی، جس کے بعد یہ شرح 6.71 فیصد پر آ گئی تھی۔ اب اگست میں سبزیوں، اناج، دودھ، کپڑے، جوتے اور رہائش کی قیمتوں میں اضافہ کے سبب شرح مہنگائی پھر سے بڑھ کر 7 فیصد ہو گئی ہے۔
یہ لگاتار آٹھواں مہینہ ہے جب خوردہ مہنگائی، جسے سی پی آئی پر پیمائش کی جاتی ہے، ریزرو بینک آف انڈیا کے 6 فیصد کی ٹولرنس سطح سے اوپر بنی ہوئی ہے۔ خراب مانسون، خصوصاً شمالی ہندوستان میں گیہوں اور چاول جیسی فصلوں کی کمی ہو گئی ہے، جس کے سبب حکومت نے ان کی برآمدگی پر پابندی لگا دی ہے۔ اس سے خوردنی اشیاء کی قیمتیں بڑھی ہیں، جو بڑھتی خوردہ مہنگائی میں ظاہر ہوتی ہے۔